روح کیسے نکلتی ہے؟

روح کا نکلنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ جب روح نکلتی ہے تو انسان کا منہ کھل جاتا ہے۔ ہونٹ کسی بھی قیمت پر آپس میں چپکے ہوئے نہیں رہتے۔ روح پیر کو کھینچتی ہوئی اوپر کی طرف آتی ہے۔ جب پھیپھڑوں اور دل تک روح کھینچ لی جاتی ہے اور انسان کی سانس ایک ہی طرف یعنی باہر کی طرف ہی چلنے لگتی ہے۔ تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب چند لمحوں میں انسان شیطان اور فرشتوں کو دنیا میں اپنے اردگرد دیکھتا ہے۔

ایک طرف ابلیس اس کے کان میں اپنے مشورے دے رہا ہوتا ہے۔ تو دوسری طرف اس کی زبان اس کے عمل کے مطابق کچھ الفاظ ادا کرنا چاہتی ہے۔ اگر انسان نیک ہو تو اس کا دماغ اس کی زبان کو کلمہ شہادت کی ہدایت دیتا ہے۔ اگر انسان کافر ہو بد دین ہو مشرک یا دنیا پرست ہو تو اس کا دماغ کنفیوز ہوکر ایک عجیب ہیبت کا شکار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان کی پیروی کرتا ہے اور بہت ہی مشکل سے کچھ الفاظ زبان سے ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

یہ سب اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ دماغ کو دنیا کی فضول باتوں کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ انسان کی روح نکلتے ہوئے ایک زبردست تکلیف ذہن محسوس کرتا ہے۔ لیکن تڑپ نہیں پاتا کیونکہ دماغ کو چھوڑ کر باقی جسم کی روح اس کے حلق میں اکٹھی ہو جاتی ہے اور جسم ایک گوشت کے بے جان لوتھڑے کی طرح پڑا ہوا ہوتا ہے۔

جس میں کوئی حرکت کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ آخر میں اوپر والے حصہ سے یعنی دماغ سے روح بھی کھینچ لی جاتی ہے۔ آنکھیں روح کو لے جاتے ہوئے دیکھتی ہیں۔ اس لیے آنکھوں کی پتلیاں اوپر چڑھ جاتی ہیں۔ یا جس سمت فرشتے روح قبض کر کے لے جاتے ہیں۔ اس سمت کی طرف آنکھیں پھر جاتی ہیں۔

اس کے بعد انسان کی زندگی کا ایک ایسا سفر شروع ہوتا ہے۔ جس میں روح تکلیفوں کے تہہ خانوں سے لے کر آرام کے محلات کی آہٹ محسوس کرنے لگتی ہے۔ جیسا کہ اس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ جو دنیا سے گیا واپس کبھی لوٹا ہی نہیں۔ صرف اس لیے کہ کیوں کہ اس کی روح عالم برزخ کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ جس میں اس کو ٹھکانہ دیا جائے گا۔

مومن کی روح اس طرح کھینچ لی جاتی ہے۔ جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ جبکہ گناہ گار کی روح خاردار درخت پر پڑے سوتی کپڑے کی طرح کھینچی جاتی ہے۔ اللہ اکبر اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو موت کے وقت کلمہ شہادت نصیب عطا فرماۓ۔ آمین یا رب العالمین

Scroll to Top