حضرت ادریس علیہ السلام اور ملک الموت

ایک دفعہ ملک الموت نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے حضرت ادریس علیہ السلام کو سلام کرنے اور ان سے ملاقات کرنے کی اجازت مانگی۔ جب ملک الموت حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ رہوں۔ تو حضرت ادریس علیہ السلام نے منظور فرمایا اور وہ ایک دوسرے کے رفیق ہو گئے اور وہ مدتوں تک ساتھ رہے۔

آپ علیہ السلام دن کو روزہ رکھتے۔ جبکہ رات کے وقت حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس من و سلوا پہنچ جاتا۔ جس سے وہ افطار فرماتے۔ وہ ملک الموت کو بھی کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دیتے۔ مگر وہ کہتے تھے کہ مجھ کو ضرورت نہیں ہے اور نماز میں مشغول رہتے۔ حضرت ادریس علیہ السلام تھک کر سو جاتے تھے۔ لیکن ملک الموت کو نہ سستی لاحق ہوتی نہ وہ سوتے تھے۔

اسی طرح چند روز گزرے یہاں تک کہ ایک روز وہ انگور کے ایک باغ اور بھیڑوں کے ایک غول کے پاس سے گزرے۔ ملک الموت نے پوچھا کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ہم بھیڑکا ایک بچہ اس غول سے یا اس باغ سے انگور کے چند خوشے لے آؤں۔ تاکہ آپ شام کو اسی سے افطار کر لیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے کہا سبحان اللہ میں تم کو اپنے مال سے کھانے کی دعوت دیتا ہوں تو تم انکار کر دیتے ہو۔

اور مجھ کو دوسروں کا مال بغیر اجازت کھانے کی دعوت دیتے ہو۔ تم نے میری صحبت کا خوب حق ادا کیا ہے۔ بتاؤ تم کون ہو؟ کہا کہ میں ملک الموت ہوں۔ تو حضرت ادریس علیہ سلام نے کہا تم سے میری ایک حاجت ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا؟ کہا چاہتا ہوں کہ مجھ کو آسمان پر لے چلو۔ تو ملک الموت نے خدا سے اجازت لے کر ان کو اپنے پروں پر بٹھایا اور آسمان پر لے گئے۔

پھر حضرت ادریس سلام نے فرمایا کہ میری ایک دوسری حاجت بھی ہے۔ پوچھا وہ کیا؟ فرمایا میں نے سنا ہے کہ موت بہت سخت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا کچھ مزہ بھی چکھؤں۔ تاکہ سمجھوں کہ ویسی ہی ہے جیسا کہ میں نے سنا ہے۔

ملک الموت نے خدا سے اجازت لی۔ اجازت ملنے پر تھوڑی دیر کے لیے ان کی سانس پکڑ لی۔ پھر ہاتھ ہٹا لیا۔ پوچھا کہ موت کو کیسا پایا؟ فرمایا بہت زیادہ شدید ہے۔ اس سے جیسا کہ میں نے سنا تھا۔ پھر فرمایا ایک اور حاجت بھی ہے۔ مجھے جہنم کی آگ دکھا دو۔ ملک الموت نے خادم جہنم کو حکم دیا کہ جہنم کے دروازے کو کھول دے۔

جب حضرت ادریس علیہ السلام نے دیکھا تو غش کھا کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو فرمایا ایک اور حاجت ہے یعنی بہشت دیکھنا چاہتا ہوں۔ ملک الموت نے بہشت کے خادم سے اجازت لی اور ادریس علیہ السلام بہشت میں داخل ہوگئے اور فرمایا اے ملک الموت! اب میں یہاں سے باہر نہ آؤں گا۔

کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور میں نے چکھ لیا۔ فرمایا گیا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے۔ جو جہنم کےپاس وارد نہ ہو اور میں وارد ہو چکا۔ بہشت کے بارے میں فرمایا کہ اہل بہشت بہشت سے باہر نہیں جائیں گے اور اس طرح حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں رہ گئے اور ابھی تک جنت میں ہی موجود ہیں۔

ریفرنس
یوٹیوب چینل

Scroll to Top